تاریخ ایک پہیہ ہے جو حرکت میں رہتا ہے اور اس حرکت میں زماں حال ، زماں ماضی بن جاتا ہے جو آج ہے وہ کل بن جاتا ہے اور جو کل ہوگا وہ بھی ایک دن ماضی کا حصہ بن جاتا ہے۔ایسے ہی گزرنا ہے سو گزرے،بس ایک عکس باقی رہ جاتا ہے۔تاریخ ایک فرد کی بھی ہوتی ہے اور اقوام کی بھی۔ اس دھرتی پر انسان نے جو دنیا بنائی ہے وہ بھی تاریخ ہے۔انسانوں کی تاریخ ان کے وجود سے بنتی ہے۔ارتقاء کی مسافتیںاسی تاریخ کی سخن ہیں۔فیض کی ان سطروں کی مانند۔
یہ سخن جو ہم نے رقم کیے سب ورق ہیں تیری یاد کے
کوئی لمحہ صبح فراق کا،کوئی شام ہجر کی مدتیں
یہ دنیا بڑی تیزی سے بدل رہی ہے اور اسی تیزی سے تاریخ بھی۔پہلے جو حقائق صدیوں میں تبدیل ہوتے تھے،وہ اب سالوں میں ہونے لگے ہیں۔ دور حاضر میں فلسفے کے حوالے سے یوول ہراری اپنا مقام رکھتے ہیں۔وہ یہ کہتے ہیں کہ اس وقت دنیا میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی پہلی ترتیب یا پہلی جنریشن موجود ہے جس کو ہم دیکھ اور سمجھ رہے ہیں۔اس سائنس و ٹیکنالوجی میں بڑی تیزی سے بدلاؤ آرہے ہیں اور اس بدلاؤ میں دنیا کی کایا تبدیل ہو نی ہے۔انسانوں کے حکمرانی جو اس دنیا پر آج سے دس ہزار سال پہلے قائم ہوئی تھی اب اس انسانی حکمرانی کا خاتمہ ہونا ہے،پھر حاکمیت قائم ہو نی ہے اس مصنوعی ذہانت کی۔
مجھے اس بات کا بڑا افسوس ہے کہ اس بدلتی دنیا اور اس کی تیزی کو اردو زبان میں کوئی رقم نہیں کر پا رہا ہے۔کیا ہماری ترجیحات اور ہمارے موضوع مختلف ہیں یا پھر ہم آج بھی اسی بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں،اگر ہم اردو زبان کو عہد حاضر کی ترجیحات کے پیرائے میں نہیں ڈھالیں گے تو نقصان سراسر ہمارا ہی ہوگا۔ جس طرح سے ہم اردو زبان میں انگریزی اصطلاحات کی غلط تشریح کرتے ہیں جیسا کہ انگریزی زبان کے لفظ ’’سیکولر‘‘ کی تشریح جو ہم نے اردو میں کی وہ ہے ’لادینیت ‘ یا پھر ATHEISM جب کہ اس کے حقیقی معانی انگریزی لغت میں یہ ہے کہ’’ ریاست اور مذہب الگ الگ ہے‘‘اور خصوصاً یہ اصطلاح قانونی اور آئینی زاویے کی ہے اور اس کی بھرپور تشریح یہ ہے کہ ریاست کسی خاص مذہب ، نسل یا پھر زبان کی نہیں ہے بلکہ ریاست تمام مذاہب، تمام رنگ ونسل اور زبانوں کے درمیان بھائی چارے کو یقینی بناتی ہے۔
ایک ریاست کا مقصد ہی یہی ہے جیساکہ ہمارے آئین کا آرٹیکل بیس کہتا ہے۔تاریخ اپنے ابواب میں بڑی بے رحم ہے،جو اقوام یا ریاستیں بدلتے حقائق کو تسلیم نہیں کرتیں، بدلتے وقت کے ساتھ تبدیلی نہیں لاتیں، تاریخ انکو کہیںبلیک ہول میں پھینک دیتی ہے۔
ہمارے سندھ کی تاریخ ایک جداگانہ حیثیت رکھتی ہے۔ سندھ میں ہر رنگ و نسل ، ہر مذہب و فرقے کو اپنی عبادت گاہوں میں جانے اور عبادت کرنے کی مکمل آزادی ہے اور پھر وہ جانیں اور ان کا خدا جانے۔کہیں ایسا نہیں جیسا کہ ہمارے سندھ کا محور ہمارا بھٹائی ہے۔شاہ کی شاعری اور ان کے افکار سندھ کا بیانیہ ہیں۔سندھ کے نوجوان چھوٹی چھوٹی محفلوں اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھٹائی کے اشعار سنا کر اپنا مؤقف سمجھائیں گے۔مگر یہ ہماری بد نصیبی ہے اتنی امیر ثقافت کا مالک یہ صوبہ معاشی طور پر مضبوط نہ ہوسکا، معاشی طور پر کوئی تبدیلی نہ لا سکا۔
سندھ کے تمام بڑے شہر کراچی، حیدرآباد، سکھر اور شکار پور یہ تمام متوسط طبقے سے تھے اورہندو خاندانوں کو آزادی کے بعد یہاں سے کوچ کرنا پڑا۔ ان کے جانے بعد سندھ کی اشرافیہ صرف زرعی وڈیروں ، گزی نشینوں اور جاگیرداروں تک ہی محدود رہی۔سوچ کے اعتبار سے یہ وڈیرے صوفی اقدار کے حامی تو ہیں مگر دہقانوں کے معاملے اور ترقی کے منحرف ہیں۔ان فرسودہ روایات کے حامی ہیں جہاں کسان اور غریب کا استحصال ہو۔
قصہ مختصر ایک ماہ پہلے پولیس کی کسٹڈی میں رہنے والا ڈاکٹر شاہنواز بلآخر قتل کردیا گیا۔اس جرم کی سزا اور ٹرائل دونوں کا طریقہ ہمارے آئین و قانون میں موجود ہے۔ اب مذہب انتہا پسندوں کے لیے ایک ایسا ہتھیار بن گیا ہے جس کو انھوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا۔ڈاکٹر شاہنواز کے جرم کی آزادانہ تحقیقات کرائی جاتی ،کم از کم تحقیق ضرور ہونی چاہیے تھی۔اس کا یہ حق کسی اور نے نہیں بلکہ قانون کے رکھوالوں نے ہی چھینا۔
ڈاکٹر عمر کوٹ، تھرپارکر کی اکثریت اقلیتوں سے تعلق رکھتی ہے اور زیادہ تر وہ بھیل، کولہی، مینگھواڑ قبائل سے ہیں۔اس قتل سے ان لوگوں پر ایک دہشت طاری کردی گئی ہے کہ وہ یہاں غیر محفوظ ہیں ۔سوال یہ ہے پولیس نے اپنی کسٹڈی میں مبینہ ملزم کوکیوں مارا؟اس سوال کو لے کر سندھ حکومت نے پولیس افسران پر مبنی ایک کمیشن بنایا کہ اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کی جائے۔ سندھ حکومت نے ڈی آئی جی، ایس ایس پی اور ایس ایچ او کو بر طرف کرکے ، ان پر اور مذہبی شخص پر ایف آئی آر کاٹنے کا حکم دے دیا ہے لیکن ابھی تک گرفتاریاں عمل میں نہیں آئیں۔
ڈی آئی جی پر ایف آئی کٹی ہے ، اسے ہار پہنانے والا اسی علاقے کا پیپلز پارٹی کا ایم این اے تھا جن کے خلاف اب تک کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔گھوٹکی ضلع کے ایک پیر صاحب نے اس ہتھیار کو دو کروڑ کی قیمت میں وہ خریدنے کا اعلان کررکھا ہے جس کے ذریعے پولیس کسٹڈی میں ملزم کو قتل کیا گیا تھا، اس کے خلاف اب تک کوئی ایف آئی آر نہیں کٹی ہے اور نہ ہی سندھ حکومت نے اس بات کا نوٹس لیا ہے۔قانون کی تشریح کرنا عدالتوں کا کام ہے نہ کہ کسی فرد واحد یا پھر کسی تنظیم کا۔ایسے عمل سے خود ریاست کی ساخت کو نقصان پہنچتا ہے۔
مخدوم بلاول ہمارے سندھ کا بہت بڑا نام ہے۔چودہویں صدی میں جب سندھ پر ارغونوں اور ترخانوں نے حملہ کیا تو مخدوم بلاول کو سنگین الزامات کے تحت تیل کی کڑاہی میں پھینک دیا گیا کہ لوگوں میں دہشت پھیلے۔تاریخ ایسی غاصبوں کا حساب خود کرتی ہے ، آج مخدوم بلاول کا کیا مقام ہے اور غاصبوں کا کیا انجام ہے۔
ہمارے صوفیا کی تحریک ہزار سال کی روایت رکھتی ہیں۔تاریخ ایسے ہی رواں رہے گی۔یہ وقت بھی گزر جائے گا جیسے ترخانوں اور ارغونوں کا گزر گیا۔جس نے حق اور سچ کا ساتھ نہیں دیا، وہ تاریخ کے کوڑے دانوں میں گرا۔
شیتل بانو
- Adbullah Abbasi
کچھ ایسی خبریں ہوتی ہیں جو ایوانوں کی درودیوار ہلا دیتی ہیں، ایسے راز افشاء کردیتی ہیں جن میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ بہت سے تضادات ہیں جو ریاست کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں اور آگے جا کر بہت نقصان دہ ثابت ہوںگے۔ انھیں مسائل میں سے ایک ہمارا قبائلی نظام برعکس شہری روایات کے اور دوسری طرف ہے، یہ دنیا جو تیزی سے تاریخ کے نئے زینوں پر رواں ہے جہاں ریاستی سرحدوں کا تصور فقط ناموں تک ہی محدود رہ جائے گا، جس کو انگریزی زبان میںGLOBALIZATION یا عالمگیریت کہا جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت نے اس دنیا کے سسٹم کو بدل دیا ہے۔
کیا اس بات کا تصورکیا جا سکتا ہے کہ امریکا یا یورپ میں کوئی باپ، بھائی کسی قبائلی سردارکے کہنے پر اپنی بیٹی، بہن، ماں یا بیوی کو عزت یا غیرت کے نام پر قتل کردے۔ حال ہی میں بلوچستان میں ایسا واقعہ پیش آیا۔ دو مہینے تک خبر چھپی رہی، لوگوں پر اپنا ٹیہکا اور رعب جمانے کے لیے سردار نے خود اس خبر کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا۔
ایک نہتی لڑکی، جس کے پاس قرآنِ پاک تھا، اس کو اور اس کے شوہر کو دھوکے سے ایک ویران صحرائی علاقے میں لے جا کر گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔ اس کا قصور یہ تھا کہ اس نے اپنی مرضی سے قبیلے کے باہر شادی کی۔ اس لڑکی پر جب گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی تو وہ ایک اکیلی اور نہتی عورت تھی اور پچاس کے قریب مسلح مردوں نے اس کا محاصرہ کررکھا رکھا تھا ، وہ تمام مرد بڑی بڑی لینڈ کروزر گاڑیوں اور ڈبل کیبن ڈالوں پر سوار ہوکر اپنی ’’غیرت‘‘ کا انتقام لینے آئے تھے۔
مردوں کے اس ہجوم میں اس نہتی لڑکی کا سگا بھائی بھی موجود تھا اورگولی مارنے کا حکم دینے والا سردار بھی۔ اس سردار کے حکم کی تعمیل کرنے والا شیتل بانو کا چچا زاد بھائی تھا۔ دو مہینے تک یہ خبر رپورٹ نہ ہوسکی اور نہ ہی کوئی ایف آئی آر درج ہوئی۔ اس ہولناک قتل کی وڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو سوشل میڈیا پرکہرام مچ گیا۔ شاید یہ سوشل میڈیا کی تاریخ کی پہلی خبر ہوگی جس نے وائرل ہوتے ہی ایک پر احتجاج شور برپا کردیا۔
بلوچستان میں متکبرانہ اور ماورائے آئین و قانون سرداری روایات کھل کر سامنے آئیں۔ بلوچستان میں حکومت، سول سوسائٹی انسانی حقوق کے ادارے، پولیس، عدالتیں سب کمزور اور بے بس نظر آئے۔ ایک طرف بلوچستان میں شورش زدہ آواز ہے جو وفاق سے گلے شکوے رکھتی ہے اور اس آواز کو بلند کرنے والوں میں ایک عورت بھی شامل ہے اور دوسری طرف ہے، مفلس، بے بس اور غلام رعایا اور قبائلی نظام اور اس نظام کے مالک اور ٹرسٹی نواب، سردار، وڈیرے اور ان کے اتحادی مذہبی لیڈر۔
یہ قبائلی سردار اپنی عدالت خود چلاتے ہیں، سزائیں خود سناتے ہیں، جیلیں ان کی اپنی ہیں، اپنے اس اقتدار کا نام انھوں نے روایات اور رسم و رواج رکھا ہوا ہے ۔ سرداروں میں کچھ ایسے بھی سردار تھے جو اپنے رسم و رواج کے خلاف کھل کر تو نہ بول سکے لیکن آمریتوں کے سامنے بلوچستان کے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوئے، جب کہ زیادہ تر قبائلی سردار آمریتوں کے اتحادی رہے ہیں۔
آج سے بائیس سال قبل جب میں نواب اکبر بگٹی سے ملنے ڈیرہ بگٹی گیا تھا۔ علاقے کی ایک رسم ’’ چربیلی ‘‘ کا ذکر ہوا۔ اس میں ایک ملزم کو سچائی ثابت کرنے کے لیے دہکتے انگاروں پر چل کرگزرنا ہوتا ہے، اگر اس شخص کے پیر نہ جلیں تو وہ بے قصور اور جل جائیں تو قصور وار۔ پھر اس حساب سے اس عورت اور مرد جن پر ناجائزتعلقات کا الزام ہوتا ہے، ان کو سنگسارکیا جاتا ہے۔ نواب اکبر بگٹی جن کی تعلیم یورپ کے بہترین اداروں سے تھی، وہ بھی ان روایات کے حق میں دلائل دینے لگے۔
بلوچ قوم پرست جن کا تعلق مڈل کلاس سیاست سے ہے، وہ بھی ایسے واقعات پر کھل کر اپنا مؤقف نہیں دیتے۔ بہ حیثیت ایک آزاد ریاست ہم پچھتر برس سے یہ سب دیکھ رہے ہیں۔ بلوچستان میں سرداری نظام جس کو ذوالفقارعلی بھٹو نے نام نہاد طریقے سے ایک بھرے جلسے میں دستاویز دکھا کر یہ کہا تھا کہ وہ اس نظام کو ختم کرتے ہیں۔
خیبر پختو نخوا کا ایک حصہ ستر برس تک فاٹا رہا، جہاں پاکستان کا آئین اور قانون کبھی لاگو نہ رہا، وہاں ان کا اپنا نظام چلتا تھا۔ سندھ کے شمالی علاقوں میں بھی سرداری نظام رائج ہے اور روایتیں یہاں بھی اپنائی گئیں۔ ہمارے انتہائی محترم جج، جو اب سپریم کورٹ کے جج بن چکے ہیں، انھوں نے یہ جرأت کی کہ جرگے اور پنچایت کو غیرآئینی قرار دے دیا اور یہ آرڈر پاس کیا کہ متعلقہ علاقے کا پولیس آفیسر اس بات کا ذمے دار ہوگا کہ جو شخص جرگے میں ملوث ہو، اس کوگرفتارکیا جائے۔
ایک دو سال تک تو خاموشی رہی، غیرت کے نام پر قتل کے واقعات اخباروں میں رپورٹ نہیں ہوئے مگر اب یہ دوبارہ سندھی اخباروں کے فرنٹ پیج پر اہم خبرکے طور پر رپورٹ ہوتے ہیں۔
ہمارا آئین اور قانون دستاویزات کی شکل میں موجود ہے۔ کیا یہ آئین اور قانون عملاً ہمارے ملک کے ہر علاقے پرلاگو ہے؟ہمارے ملک کے آدھے حصے میں آج تک ہمارا قانون رائج نہ ہو سکا۔ ان علاقوں میں ایک تو علاقہ غیر یا سابقہ فاٹا، بلوچستان کے سرداری علاقے ہیں اور دوسرے کچھ شہری و دیہی علاقے جہاں قانون موجود ضرور ہے مگر انتہائی سست روی سے اس پر عمل کیا جاتا ہے۔
اس ملک میں قانون مہنگے داموں پر میسر ہے، اس مہنگائی کے باعث لوگ اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ علاقے کے سردار سے اپنے فیصلے کرائیں پھر ان کے کیے ہوئے فیصلوں پر عمل درآمد بھی جلدی ہو جاتا ہے۔ یہاں پر بنائے گئے جرگہ یا پنچایت سسٹم اپنے محور میں عورت دشمن ہیں۔ اس سسٹم میں کسی عورت کو انصاف نہیں مل سکتا۔
دو سال قبل یہ واقعہ سندھ میں پیش آیا تھا۔ ایک معروف پیرکے گھر میں ایک آٹھ سالہ بچی فاطمہ پھرڑوکام کرتی تھی۔ وہ بچی سسک سسک کر دم توڑ گئی۔ اس کی یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور شیتل بانو کی طرح اس واقعے نے بھی بڑا زور پکڑا لیکن اس علاقے کی پولیس نے اس کیس کو بہت کمزور بنایا۔
یہ کیس ہماری حکمراں پارٹی نے ہی کمزور بنایا اور بلآ خر فاطمہ کے غریب ماں باپ نے سمجھوتہ کیا۔ بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ کے بیان کے سے، کچھ ایسا لگ رہا ہے کہ اس کیس کا بھی وہ ہی حشر ہوگا جو آج تک ایسے کیسزکا ہوتا رہا ہے، کیونکہ آخرِکار یہ ریاست انھیں شرفاء کے ٹولے کے مفادات کی نمایندہ ہے۔
آئین اور قانون مروج ہونا برسوں کی مشقت ہے۔ مروج ہونے سے لاگو ہونے تک اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اگر معاشرہ مضبوط ہو، تو ایسے رسم و رواج خود بخود معاشرے سے ٹکراؤ میں آتے ہیں۔ ریاست ایسے اداروں اور انسانی حقوق کا تحفظ اور فروغ کے لیے کام کرنے والوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے،کیونکہ آئین اور قانون ریاست بناتی ہے۔ ریاست حلف لیتی ہے اپنے شہریوں کو انصاف، ان کی جان و مال اور حقوق کے تحفظ کا۔ دنیا کی تمام مہذب ریاستیں ان فرسودات کو شکست دے چکی ہیں۔
ہمارا ملک اب بھی ان فرسودہ روایات کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ ملک کی آزادی کے بعد چھبیس سال تک ہم اس ملک کو آئین نہ دے سکے۔ پھر بھی یہ ملک ایک مہذب قانون کے تحت چلتا رہا۔ آمریت خود ان شرفاء کے مفادات کی محافظ ہے۔ مسلم لیگ جس کے پرچم تلے ہم نے آزادی پائی، اس پارٹی میں بھی شمولیت تمام وڈیروں، پیروں اور سرداروں کی تھی اور پاکستان بننے کے فوراً بعد یہ جماعت بحرانوں کی نذر ہوگئی۔
آزادی کے بعد مشرقی اور مغربی پاکستان میں تضادات رہے اور ان تضادات کی وجہ یہ تھی کہ مشرقی پاکستان میں مڈل کلاس سیاست پر چھائی ہوئی تھی اور مغربی پاکستان کی سیاست پر پیروں، وڈیروں اور سرداروں کا تسلط قائم تھا۔ سرد جنگ کے مفادات میں ہم اپنے قومی مفادات کو کمپرومائز کرچکے تھے، اگر مغربی پاکستان میں مڈل کلاس سیاست ہوتی تو ہم ایسے مہرہ نہ بنتے۔
شیتل بانوکا واقعہ، ہماری ریاست،آئین و قانون کی شکست ہے۔ بلوچستان کی قوم پرست سیاست کی شکست ہے جو کھل کر ایسے واقعات اپنا مؤقف بیان نہیں کرتی۔ سندھ کے اندر مڈل کلاس سیاست بھی اسی وڈیرہ شاہی کے زیر اثر ہے مگر یہ اثرات اتنے گہرے نہیں جیسا کہ بلوچستان میں ہیں۔یہاں مذہبی ایشوزکے ذریعے آئین اور قانون میں تصادم پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس کی بنیاد جنرل ضیاء الحق ڈالی۔ آج ملک منشیات کے کاروبار، اسمگلنگ کی زد میں ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ ریاست آئین اور قانون کوکمزور بنا رہی ہے۔
شیتل بانو کے جسم پر لگی گولی دراصل پاکستان کے آئین اور قانون میں پیوست ہوئی ہے۔ ایک نہتی عورت اپنے بیٹے، باپ اور بھائی کے سامنے قتل ہوجاتی ہے اور وہ یہ سب اپنی آنکھوں سے ہوتا دیکھ رہے تھے، جس دھج سے شیتل بانو گولیاں کھانے کے لیے آگے بڑھی، وہ وہاں پر تمام مردوں کو بزدل ثابت کرتی ہے، بالکل ایسے ہی موقع کے لیے فیض لکھتے ہیں کہ
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی توکوئی بات نہیں